پہلے پہلے بلایا گیا ڈاکیہ
پھر کئی بار آیا گیا ڈاکیہ
کچے رستوں سے نکلا تو خط گر پڑے
ایک پتھر سے ٹکرا گیا ڈاکیہ
لوگ دیوار و در سے لپٹنے لگے
ایک دن گاؤں میں آ گیا ڈاکیہ
کچے گھر کی پہنچ سے بہت دور تھا
باد و باراں سے گھبرا گیا ڈاکیہ
دل پہ دستک سنائی نہ دی پھر کبھی
آنکھ سے دور ہوتا گیا ڈاکیہ
ہاتھ ملتی رہی خواہش خواندگی
جو بتایا وہ لکھتا گیا ڈاکیہ
آخری خط لیے آخری موڑ پر
آخری بار دیکھا گیا ڈاکیہ
اکرام عارفی