جمیل الدین عالی

نوابزادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔
عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انھوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
ان کا انتقال 23 نومبر 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔

کیا کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

3 مہینے پہلے

نظروں سے بصیرت کی نہاں

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

3 مہینے پہلے

عالؔی جس کا فن سخن میں

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

3 مہینے پہلے

میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

3 مہینے پہلے

اگلی گلی میں رہتا ہے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

4 مہینے پہلے

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

4 مہینے پہلے

جس سورج کی آس لگی ہے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

4 مہینے پہلے

بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

4 مہینے پہلے