کیا کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے
اپنا بنا دیا ہے ترے انتظار نے

کیا جانے کتنے اہل طریقت کو آج تک
گمراہ کر دیا ہے ترے رہ گزار نے

کچھ ان کی جستجو ہے نہ کچھ اپنی گفتگو
یہ کیا بنا دیا ستم روزگار نے

ہاں اے نگاہ گرم نہ کر مختصر حیات
ہم کو ہزار بوجھ ابھی ہیں اتارنے

الجھے ہوئے ہیں گیسوئے جاناں میں آج تک
عالیؔ چلے تھے کاکل گیتی سنوارنے

جمیل الدین عالی​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔