عالؔی جس کا فن سخن میں

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

عالؔی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا
نقد سخن میں ذکر یہ آیا دوہے پڑھنے والا تھا

جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو
برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا

کیا وہ گھٹا ترے گھر سے اٹھی کیا وہ تو نے بھیجی تھی
بوندیں روشن روشن تھیں اور بادل کالا کالا تھا

اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے
اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

ہم نہ ملے اور جب بھی ملے تو دونوں نے اقرار کیا
ہاں وہ وعدہ ایسا تھا جو پورا ہونے والا تھا

تپتی دھوپوں میں بھی آ کر اپنی یاد دلاتے ہیں
چاند نگر کے انشاؔ صاحب آلے جن کا ہالا تھا

جمیل الدین عالی​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔