ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا

بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل

ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا
کہ ڈھونڈھے سے ہم سا نہ پائے گی دنیا

مجھے کیا خبر تھی کہ نقشِ وفا کو
بگاڑے گی دنیا بنائے گی دنیا

محبت کی دنیا میں کھویا ہوا ہوں
محبت بھرا مجھ کو پائے گی دنیا

ہمیں خوب دے فریب محبت
ہمارے نہ دھوکے میں آئے گی دنیا

قیامت کی دنیا میں ہے دل فریبی
قیامت میں بھی یاد آئے گی دنیا

رلا دوں میں بہزاد دنیا کو خود ہی
یہ مجھ کو بھلا کیا رلائے گی دنیا

بہزاد لکھنوی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔