برصغیر کے معروف شاعر بہزاد لکھنوی، جن کی پیدائش لکھنؤ میں اور وفات کراچی میں ہوئی۔ وہ یکم جنوری 1900 کو لکھنئو میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سردار حسین خان تھا۔ شاعری میں استاد ذاخر لکھنوی کے شاگرد ہوئے
ان کے والد بھی اپنے وقت میں خاصے مقبول شاعر تھے۔ گھر اور لکھنؤ کے ادبی ماحول کے اثر سے بہزاد بھی بہت چھوٹی سی عمر میں شعر کہنے لگے تھے۔
بہزاد ایک لمبے عرصے تک محکمۂ ریل سے وابستہ رہے اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی۔ اس دوران کئی فلمی کمپنیوں سے وابستہ ہوکر نغمے بھی لکھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان کراچی میں ملازمت کی۔
بہزاد لکھنوی قادر الکلام شاعر تھے ۔ ان کے30 سے زیادہ مجموعے شائع ہوئے۔45 سے زیادہ فلموں کے گیت بھی لکھے۔ جن میں خاندان، جگنو، آگ ، انوکھا پیر، گجرے، لاڈلی شامل ہیں۔ پہلا گانا ’’ زندہ ہوں اس طرح کہ غمِ زندگی نہیں ‘‘ راج کپور کی پہلی فلم ’’ آگ ‘‘ کیلئے لکھا جو مکیش نے گایا۔ آخری عمر میں صرف نعت گوئی کی۔ وہ بہت اچھے نثر نگار بھی تھے۔ حکیم بڈھن کا دلچسپ کردار ان کی تخلیق تھا۔ شعری مجموعے : نغمۂ نور ، کیف و سرور ، موج طہور ، چراغ طور ، وجد وحال ۔
ان کے صاحب زادے انور بہزاد بھی ریڈیو پاکستان ۔سے کئی دہائیوں تک بطور نیوز کاسٹر وابستہ رہے ان کا خبریں پڑھنے کا ایک منفرد انداز تھا 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں انکے خبریں پڑھنے کے ولولہ انگیز انداز نے عوام کے اندر جوش و خروش کی نایک ئئی روح پھونک دی تھی
وہ 10 اکتوبر 1974 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔