تجھ سے جو روز ملاقات مری رہتی ہے
سر نہیں رہتا اگر بات مری رہتی ہے
دشتِ امکان میں یوں کون یہاں بھٹکا ہے؟
بس تری چاہ میں یہ ذات مری رہتی ہے
شمس و منصور یہاں کتنے پھرا کرتے ہیں
تیری ہی ذات میں یہ ذات مری رہتی ہے
روح پھڑکے ہے مری قیدِ عناصر میں ابھی
زندگی کی یہ حوالات مری رہتی ہے
آنکھ اک پل بھی مری شام و سحر لگتی نہیں
تیری ہی سمت لگی گھات مری رہتی ہے
نورِ وحدت سے اگر ہو منور لوحِ دل
تیرہ و تار بھلا رات مری رہتی ہے؟
آئینہ خانہ ہستی کا عجب عالم ہے
عکس میں گم یہاں اوقات مری رہتی ہے
گردشِ وقت کا احساس مجھے کھاتا ہے
بیچ سے پردہ ہٹے جھات مری رہتی ہے
بازیِ عشق میں ہے جیت بے معنی عاجزؔ
سرخروئی کے لیے مات مری رہتی ہے
ڈاکٹر الیاس عاجزؔ