عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے
ان پہ اعتبار آیا خود کو آزمانے سے

اس ہجوم میں تجھ کو کیا خبر ہوئی ہوگی
کس کو کیا تعلق تھا تیرے آستانے سے

یوں سلام آنے پر اک خلش سی ہوتی ہے
کاش ہم کو بلواتے وہ کسی بہانے سے

ہاں تو ان کی خاطر سے کیوں تراوشیں کرتے
جس طرح وہاں گزری کہہ گئے زمانے سے

جب بھی بزم عالم میں کوئی فتنہ اٹھتا ہے
یا تمہاری محفل سے یا غریب خانے سے

سلسلہ یہی ہوگا رخ بدلتے جائیں گے
میں تری حقیقت سے تو مرے فسانے سے

جمیل الدین عالی​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔