بسترِ گُل

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

چاندنی شب میں دِل کی بے خودی کا حال دیکھ
اِک نگاہ میں مستی و تابندگی کا حال دیکھ

گُلبدن کی نرم آغوشی میں کیف کی لَہر
سوز و سازِ دِل کی بے چارگی کا حال دیکھ

آنکھوں آنکھوں میں محبت کا اشارہ ہو چلا
خامشی میں بھی نظر کی چپ لَبی کا حال دیکھ

کیا عجب دیدار کا لمحہ، کہ جب خمار میں
اِک بدن کے خَم میں چُھپی عاشقی کا حال دیکھ

وصل کی ساعت میں گُل بکھرے، خوشبوؤں کا راج
سانسوں میں چھُپی ہوئی شعلہ دِہی کا حال دیکھ

بے زبانی میں بھی اک رقصِ لذّت کی نمود
خامشی میں بھی عیاں راز و نیاز کی بات دیکھ

اُس کے لب پر میری چاہت کا پیامِ دلنشیں
میرے دل میں اُس کی خوشبو کی بسی یاد دیکھ

چند لمحے وصل کے، باقی فقط خاموشیاں شاکرہ
دل کی دنیا، یاد کی محفل جلی، پھر چاندنی کا حال دیکھ

شاکرہ نندنی

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔