بھٹکے ہوئے عالی سے پوچھو

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

بھٹکے ہوئے عالی سے پوچھو گھر واپس کب آئے گا
کب یہ در و دیوار سجیں گے کب یہ چمن لہرائے گا

سوکھ چلے وہ غنچے جن سے کیا کیا پھول ابھرنے تھے
اب بھی نہ ان کی پیاس بجھی تو گھر جنگل ہو جائے گا

کم کرنیں ایسی ہیں جو اب تک راہ اسی کی تکتی ہیں
یہ اندھیارا اور رہا تو پھر نہ اجالا آئے گا

سمجھا ہے اپنے آپ سے چھٹ کر سارا زمانہ دیکھ لیا
دیکھنا! اپنے آپ میں آ کر یہ کیا کیا شرمائے گا

ایسی گیان اور دھیان کی باتیں ہم جانے پہچانوں سے
تو آخر بھولا ہی کیا تھا تجھ کو کیا یاد آئے گا

کچھ چھوٹے چھوٹے دکھ اپنے کچھ دکھ اپنے عزیزوں کے
ان سے ہی جیون بنتا ہے سو جیون بن جائے گا

چار برس سے بیگانے ہیں سو ہم کیا بیگانے ہیں
روٹھنے والا جیون ساتھی دو دن میں من جائے گا

کس کس راگ کے کیا کیا سر ہیں کس کس سر کے کیا کیا راگ
سیکھے نہ سیکھے گانے والا بے سیکھے بھی گائے گا

عالیؔ جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے
ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے گا

جمیل الدین عالی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔