حضورِ اکرم تمام امت
مصیبتوں میں پڑی ہوئی ہے
انا کی طاقت، ہوس کی لالچ
سبھی کے دل میں بھری ہوئی ہے
فلک بھی سارا دھواں دھواں ہے
زمیں بھی ساری لہو لہو ہے
نظام سارے ادھڑ چکے ہیں
جہاں کے منظر اجڑ چکے ہیں
چلی ہے ایسی فضائے مفلس
کہ خواب سارے بکھر چکے ہیں
ثواب کیا ہے، عذاب کیا ہے ؟
نئے جہاں کا مزاج کیا ہے؟
حضورِ اکرم تمام امت
سبق یہ سارے بھلا چکی ہے
بڑے بڑے بت بنا چکی ہے
یہ قتلِ ناحق پر تل گئی ہے
یہ دین داری کے چکروں میں
سبھی کو کافر بنا رہی ہے
نظامِ نفرت جگا رہی ہے
خیال ہے یہ
ہوس کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے
حضورِ اکرم تمام امت
مصیبتوں میں پڑی ہوئی ہے
شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور