عوام اب پوچھتے ہیں

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

عوام اب پوچھتے ہیں بولو استحصال کیسا ہے
طمانچوں سے حکومت کا ہؤا رخ لال کیسا ہے

اسے ہم نے سمندر پار بھیجا تو کمانے کو
پرائے دیس میں جانے ہمارا لعل کیسا ہے؟

ابل پڑتی ہیں آنکھیں دیکھ کر بِل گیس، بجلی کے
غریبوں کو مٹانے کا بچھایا جال کیسا ہے

ابھی مہنگائی کی چکّی کے پاٹوں میں پڑے ہیں ہم
بتائے کون آگے دن، مہینہ، سال کیسا ہے

کیا کرتا تھا تو تنقید حاکم کی جفاؤں پر
سو تیرے جسم سے کھینچی گئی ہے کھال- کیسا ہے؟

مجھے چوری پہ گاؤں سے وڈیرے نے نکالا تھا
بہت دن بعد لوٹا ہوں تو استقبال کیسا ہے

وطن میں ظلم و استبداد رائج ہے مرے مولا
ترے ہوتے لٹی ہیں عزّتیں، لجپال کیسا ہے

ہٹھائیں بن کے اب تک گاؤں میں ہی سڑ رہے ہوتے
نکل کر آ گیا جو شہر وہ خوش حال کیسا ہے

عجب سورج نکلنے کا ہے منظر گاؤں میں دیکھو
کہو مشرق سے تانبے کا ابھرتا تھال کیسا ہے

فقیروں سے ہمیں دل سے عقیدت ہے لڑکپن سے
رہا کرتا تھا جو اس گاؤں میں ابدال کیسا ہے

توجہ حسن والوں کی طرف مبذول رکھتے ہیں
کوئی پوچھے مجھے بھی حال کیا، احوال کیسا ہے؟؟

مزے ہم وصل کے ہجراں کی راتوں میں لیا کرتے
فراق اب سہہ نہیں سکتے ہیں استدلال کیسا ہے

کہا تھا سبزی والے سے ترازو تو برابر رکھ
ذرا سی بات پر حسرتؔ ہؤا جنجال کیسا ہے

رشید حسرتؔ

مورخہ ۳۰ دسمبر ۲۰۲۴، ایک بج کر ۲۵ منٹ پر یہ غزل مکمل کی گئی

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔