اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی
شبنمٗ وفا کی یاد میں روتی ہے آج بھی

آزادیوں کے گیت سناؤ نہیں مجھے
صدیوں سے قید سیپ میں موتی ہے آج بھی

جاگیر بڑھ رہی ہے یہ دکھ درد کی مری
اک یاد تیری خار چبھوتی ہے آج بھی

صحرا ہوئی ہے زندگی تیرے بغیر یوں
وحشت سی اپنے آپ سے ہوتی ہے آج بھی

آ کر کبھی یہ آنکھ سے میری بھی پوچھ لو
آنچل کیا سوچ کر وہ بھگوتی ہے آج بھی

احساس ِ زندگانی کے دھاگوں میں روز و شب
رانیؔ وفا کے موتی پروتی ہے آج بھی

روبینہ صدیق رانی

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔