اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے
ہم کو پیارا ہے، مگر بیچنا ہے

بھوک بچوں کی ہمیں توڑ گئی
شعر کہنے کا ہنر بیچنا ہے

دل تو پہلو میں کبھی تھا ہی نہیں
تم خریدو گے تو سر بیچنا ہے

وہ گرانی ہے کہ اب اپنا وقا
لے کے آنا ہے، ادھر بیچنا ہے

بک گئے چاند ستارے کب کے
اب جو باقی ہے اثر بیچنا ہے

اپنے بیٹے کی کتابیں بھی مجھے
کیا کروں دیدۂِ تر۔ بیچنا ہے

جو مقفّل ہی ملا جب بھی گئے
ایسے مے خانے کا در بیچنا ہے

کچھ نہیں اپنی تمنّا کا لہو
رات اُترے کہ سحر، بیچنا ہے

خوف ایسا ہے مسلط حسرت
دھونس کے مارے یہ ڈر بیچنا ہے

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔