آکاش پہ بادل چھائے تھے

بینا گوئندی کی ایک اردو غزل

آکاش پہ بادل چھائے تھے

آنکھوں نے اشک بہائے تھے

نیا کو بھنور میں دیکھا تھا

جب موسم پیار کے آئے تھے

اک لفظ نہ آیا ہونٹوں پر

لمحے بے درد تو آئے تھے

کچھ گیت سنے تھے بچپن میں

کچھ میٹھے خواب چرائے تھے

بیناؔ کے من میں دھوپ رہی

آنکھوں میں ٹھنڈے سائے تھے

بینا گوئندی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔