میں اپنی سوچ سے یکسر جدا ہوں

شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل

میں اپنی سوچ سے یکسر جدا ہوں

جو سچ کہیے تو کوئی دوسرا ہوں

اگر یہ ہے کہ پابندِ انا ہوں

کسی کی بات کیسے مانتا ہوں

میں یہ تنہائیاں بھی جی رہا ہوں

تری محفل میں بھی دیکھا گیا ہوں

مری تنہائیوں کو یہ گلہ ہے

تمھارے ساتھ کیوں دیکھا گیا ہوں

مری اپنی کوئی ہستی نہیں ہے

دماغ و دل میں بٹ کر رہ گیا ہوں

کبھی مجھ میں اندھیرا بولتا ہے

کبھی میں طاق میں روشن دیا ہوں

کبھی خاموشیاں ہیں میرا مسکن

کبھی سب منظروں میں بولتا ہوں

شاہین فصیح ربانی

شاہین فصیح ربانی

اصل نام شعیب ربانی - قلمی نام شاہین فصیحؔ ربانی - تاریخ پیدائش 13۔ اپریل 1965ء - جائے پیدائش: دینہ - تعلیم: ایم اے اردو، کراچی یونیورسٹی - شعری مجموعے - کوئی خواب ہمارا ہو (اردو پنجابی ماہیے) 2002ء - اگلے پَل کی طرف (غزلیات) 2006ء -