آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم

مایوس ہو نہ جائیں کہیں زندگی سے ہم

اے عکسِ زلفِ یار ہمیں تو پناہ دے

گھبرا کے آ گئے ہیں بڑی روشنی سے ہم

برسوں رہی ہے جن سے رہ و رسمِ دوستی

انکی نظر میں آج ہوئے اجنبی سے ہم

اس رونق ِ بہار کی محفل میں بیٹھ کر

کھاتے رہے فریب بڑی سادگی سے ہم

ساغر صدیقی