یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اس کی تہہ میں ایک پوری کائنات سانس لیتی ہے۔ انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے یہی سوال اس کے اندر ہلچل پیدا کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ دُنیا میں آیا کیوں ہے، جا کہاں رہا ہے، اور اس درمیانی وقفے کو "زندگی” کیوں کہا جاتا ہے۔ یہی وقفہ کبھی مسرت کا گہوارہ بنتا ہے اور کبھی کرب کا صحرا۔
زندگی کا بنیادی تصور دراصل "حرکت” اور "معنی” کے درمیان ایک مسلسل کشمکش ہے۔ مذہب اسے "امتحان” قرار دیتا ہے، فلسفہ اسے "شعور کا تجربہ” کہتا ہے اور ادب اسے "احساس کی شدت” کا نام دیتا ہے۔
انسان پیدا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب مختلف زاویوں سے دیا گیا ہے۔ مذہبی نقطہ نظر کے مطابق انسان کو عبادت اور آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا، تاکہ وہ خیر و شر کے درمیان انتخاب کرے۔
فلسفہ کہتا ہے کہ انسان خود اپنی زندگی کا مقصد تخلیق کرتا ہے، یعنی زندگی پہلے آتی ہے اور معنی بعد میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
مرنے کا مطلب بھی اسی سوال کی توسیع ہے۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک مرحلے کا اختتام ہے۔ یہ ایک ایسی سرحد ہے جس کے بعد انسان کی تمام ظاہری کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں اور اس کے اعمال کا وزن باقی رہ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صوفیا نے کہا کہ "مرنے سے پہلے مر جاؤ”، یعنی اپنے نفس کی خواہشات کو قابو میں لا کر ایک بامعنی زندگی گزارو۔
پیسہ کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب بھی سادہ اور پیچیدہ دونوں ہے۔ پیسہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے لیکن جب یہی ذریعہ مقصد بن جائے تو انسان اپنی اصل کھو دیتا ہے۔ پیسہ سکون نہیں خرید سکتا مگر سکون کی راہ کی رکاوٹیں ضرور کم کر سکتا ہے۔
ایک مفکر نے کہا تھا: "پیسہ اچھا خادم ہے مگر برا آقا۔”
شہرت اور نیکی کے معنی بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ آج کے دور میں شہرت اکثر ظاہری کامیابی کا پیمانہ بن گئی ہےجبکہ نیکی ایک خاموش عمل ہے جو دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ شہرت انسان کو لوگوں کے قریب لے آتی ہے مگر نیکی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے۔ یہی تضاد زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔
ناکام اور کامیاب زندگی کی تعریف بھی یکساں نہیں۔ ایک شخص کے لیے کامیابی دولت ہے تو دوسرے کے لیے سکون اور تیسرے کے لیے خدمت۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی ایک داخلی کیفیت ہے نہ کہ بیرونی مظاہر کا نام۔
ایک شخص جس کے پاس سب کچھ ہے؛وہ بھی اندر سے خالی ہو سکتا ہےاور ایک شخص جس کے پاس کچھ نہیں؛وہ بھی مطمئن ہو سکتا ہے۔
انسان بے بس اور نااُمید کیوں ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ سب کچھ پا لینے کے بعد بھی؟ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہیں جبکہ وسائل محدود۔ جب وہ ایک منزل حاصل کرتا ہے تو دوسری اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ یوں وہ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ باہر نہیں، اندر ہے۔
اسی کیفیت کو ایک شاعر نے مرزا غالب نے یوں بیان کیا:
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”
زندگی کے اس عجیب معمہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں مختلف مذاہب اور فلسفوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
بدھ مت کہتا ہے کہ "زندگی دُکھ ہے اور اس دُکھ کی جڑ خواہش ہے” جبکہ اسلام "صبر اور شکر” کو زندگی کا حُسن قرار دیتا ہے۔
مغربی فلسفہ میں خاص طور پر وجودیت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ "زندگی بے معنی ہے مگر انسان اسے معنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے”۔
مثال کے طور پر ایک کسان کو دیکھیں جو سارا دن محنت کرنے کے باوجود شام کو اس کے چہرے پر سکون ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک امیر شخص ہے جس کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ بے چین ہے۔ یہ فرق دراصل "معنی” کا ہے نہ کہ وسائل کا۔
ایک مکمل، خوشحال، کامیاب اور پُر اعتماد زندگی کی تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ ایسی زندگی وہ ہے جس میں انسان اپنے مقصد سے آگاہ ہو، اپنی حدود کو پہچانےاور دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنے۔
خوشحالی صرف دولت کا نام نہیں بلکہ ذہنی سکون، جذباتی توازن اور روحانی اطمینان کا مجموعہ ہے۔
اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی خودی کی پہچان میں ہے۔ جب انسان اپنے اندر کی طاقت کو پہچان لیتا ہے تو وہ زندگی کے ہر امتحان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
مشہور شخصیات کی زندگیوں کو دیکھیں تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ مفکروں، شاعروں اور سماجی رہنماؤں کی زندگیوں میں مشکلات آئیں مگر انہوں نے ان مشکلات کو اپنے لیے راستہ بنایا۔ ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انہوں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی۔
مثلاً ایک سائنسدان اپنی ناکامیوں سے سیکھتا ہے، ایک شاعر اپنے دُکھ کو لفظوں میں ڈھالتا ہے اور ایک رہنما اپنی قوم کے لیے قربانی دیتا ہے۔ یہ سب ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی کا اصل حُسن جدوجہد میں ہے۔
زندگی کو سمجھنے کے لیے کچھ کتابیں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں وہ کتابیں شامل ہیں جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں، جیسے روحانیت، فلسفہ، اور خود آگاہی پر مبنی تحریریں۔ ایسی کتابیں انسان کو یہ سکھاتی ہیں کہ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں بلکہ سمجھ کر جینا ہے۔
امجد نے کہا:
"یہی بہت ہے کہ دل اُس کو ڈھونڈ لایا ہے
کسی کے ساتھ سہی، وہ نظر تو آیا ہے”
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں تلاش ہی اصل حقیقت ہے۔ انسان ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کرتا رہتا ہے۔کبھی محبت، کبھی سکون، کبھی خود کو۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ زندگی ایک سوال نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ یہ سفر کبھی ہموار ہوتا ہے اور کبھی کٹھن لیکن اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ ہمیں مسلسل سکھاتا ہے۔
زندگی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف گزاریں نہیں بلکہ محسوس کریں اور اس کے ہر لمحے کو جئیں اور اس سے سیکھیں۔
زندگی شاید ہم سے کچھ خاص نہیں چاہتی۔بس یہ چاہتی ہے کہ ہم اسے سنجیدگی سے لیں، اس کی قدر کریں اور اسے ایک بامعنی کہانی میں بدل دیں۔
امام ناسخ نے کیا خوب کہا ہے:
زندگی زندگی دلی کا نام ہے
مُردہ دل خاک کیا کرتے ہیں
محسن خالد محسن