زندگی کا سفر

ایک اردو نظم از اسماء بتول

زندگی کا سفر
تھکا دینے والا رہا
برہنہ پا چلتے چلتے
ہر ناسور رستا رہا
جہرے پہ سجی رہی
مسکان ہر دم
دل مگر خون کے
آنسو روتا رہا
بلند بختی رہی باپ کی
آغوش تک
پھر بس یاد وہ
زمانہ آتا رہا
حساس دل کو یوں
چھلنی کیا اس نے
ہر زخمِ جگر جلتا رہا
یوں آسودہ ہے وہ کہ
جیسے کچھ ہوا
ہی نہیں۔۔۔ِ
میں تڑپتی رہی
احساس روتا رہا

اسماء بتول

اسماء بتول

نام ۔۔۔۔ اسماء بتول تاریخ پیدائش ۔۔۔ 20 جون 1976ء جائے پیدائش ۔۔ سیالکوٹ رہائش ۔۔۔۔ سیالکوٹ 19 سال سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔۔۔ آرمی پبلک اسکول سیالکوٹ میں اردو معلمہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہوں۔۔۔ حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی اپنے احساسات و جذبات کو اشعار اور نظم کی صورت میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر دیتی ہوں۔