زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں
تری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں
حقیقت جان لی ہے تیری جب سے
ترے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں
کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو
مری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں
گئے تھے جیتنے دل پھر کسی کا
دل اپنا ہار کر گھر آ گئے ہیں
مرے رب نے مری آواز سن لی
مدد میں میری لشکر آ گئے ہیں
نہیں مانگا کبھی ہم نے سہارا
یہاں تک اپنے دم پر آ گئے ہیں
سپنا مولچندانی