زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے
نا ہوٸے گر تو جاں گسل ہوں گے

فترتِ غم کبھی نہ ہو شاید
جو ملے ہیں وہ مستقل ہوں گے

المیہ ہے کہ اپنے سارے دُکھ
اگلی نسلوں کو منتقل ہوں گے

عارضی مسکراہٹیں اپنی
قہقہے غم پہ مشتمل ہوں گے

مل رہے ہیں ہمیں جو غم عاجز
زیست کے ساتھ متصل ہوں گے

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔