یہ خوف و جنگ کے منظر گمان بن جائیں
وہی زمین وہی آسمان بن جائیں
جو سرپہ کوہ سی دستار رکھ کے پھرتے ہیں
اجل کے ہاتھوں کہاں بے نشان بن جائیں
جنون و عشق و ہوس کا یہ سب کرشمہ ہے
کہیں پہ گھر تو کہیں پر مکان بن جائیں
گلی گلی جو ابھی دندناتے پھرتے ہیں
نہ جانے کب وہ کہاں داستان بن جائیں
مہ و نجوم نہیں ہم زمین زادے ہیں
بروئے آئنہ جتنے مہان بن جائیں
صدائے عشق پہ بک جائیے خموشی سے
کہا ہے آپ سے کس نے دکان بن جائیں
مرے خیال کی رعنائیوں سے آنکھوں میں
کئی افق کئی تازہ جہان بن جائیں
گھرا ہوں جب بھی کبھی مسئلوں کے طوفاں میں
تری دعائیں مرے بادبان بن جائیں
دروں کی بات کریں یہ نہ ہو اچانک ہی
فگار ہم بھی یہاں رفتگان بن جائیں
سلیم فگار