یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من
خالی کسی سبب سے پڑے ہیں جناب من

وعدوں کے جس مقام پہ چھوڑا تھا آپ نے
ہم آج تک وہیں پہ کھڑے ہیں جناب من

دولت نہیں تو کیا ہے مری شاعری تو ہے
ہر ہر غزل میں موتی جڑے ہیں جناب من

یہ جو مچی ہے بانس کے جنگل میں کھلبلی
ہم جوگیوں کو سانپ لڑے ہیں جناب من

گنوا رہے تھے عیب مرے تھوڑی دیر قبل
اب شرم سے زمیں میں گڑے ہیں جناب من

کج بحثیے بھی فہم و فراست میں کم نہیں
شاعر بھی آپ جیسے بڑے ہیں جناب من

راہ جنوں میں ساتھ مقدر ہی دے تو دے
یہ مرحلے ہنوز کڑے ہیں جناب من

ایسا نہیں کہ پھول درختوں ہی سے گرے
کچھ شاخ چشم سے بھی جھڑے ہیں جناب من

یا تو مشاعرے کو اٹھاتا ہے یہ فقیر
یا وہ کہ جن کے بال بڑے ہیں جناب من

اکرام جھولتے ہیں محبت کے پیڑ سے
کچھ دن سے شاخ دل پہ اڑے ہیں جناب من

اکرام عارفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔