یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے
ہمارے بعد بھی حالت ہماری رہ جائے

یہ پھول جھڑنے سے بچ جائیں منجمد ہو کر
شجر پہ یوں ہی اگر برف باری رہ جائے

خواص اور بھی معلوم ہو سکیں شاید
ہماری خاک پہ تحقیق جاری رہ جائے

مری زمین کے موسم بدلتے جاتے ہیں
مگر خدا کرے خوشبو تمہاری رہ جائے

وہ دن نہ آئے کہ چھالے ہی گنتا رہ جاؤں
وہ شب نہ آئے کہ انجم شماری رہ جائے

قدم نہ ہوں بھی تو محو قیام رہ جاؤں
جبیں نہ ہو بھی تو سجدہ گزاری رہ جائے

شعاعیں شام و سحر پھوٹتی رہیں شاہدؔ
ہمارے دل کی یوں ہی تاب کاری رہ جائے

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں