یہ عظمتِ جہان یہ جاہ و جلال کیا
اے خاکِ زی وقار ہے تیرا کمال کیا
فکرو نظر میں تاب کہاں ، ذوقِ آرزو
اپنی بساط کیا ہے یہ خواب و خیال کیا
دامانِ تار تار میں کیا ہے سوائے زیست
سو ، اے جنوں ، میں اور کروں پائمال کیا
جس کا ثمر نہ چھاؤں کسی کو ہو دستیاب
پھر اس شجر کے سوکھنے پر ہو ملال کیا
عمریں طویل عشق نے کر دی ہیں رائگاں
کرتے ہو تم شمار یہاں ماہ و سال کیا
نایاب ایک تارِ قبا تن کو ہو گیا
دیوانگی ، کرے گی تو اب اور حال کیا
ناپائیدار دہر میں کس کو دوام ہے
اس حلقهء فنا کے عروج و زوال کیا
دشوار کر گیا اسے طرزِ سفر فرید
ورنہ رہِ حیات میں چلنا محال کیا
فرید احمد دیو