یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا
بیکار اک چراغ ہے ضد پر اڑا ہوا

اچھا ہوا کہ پھیر لیں آنکھیں کسی نے دوست
ورنہ اترنا کب تھا یہ نشہ چڑھا ہوا

کیا وقت میرے ساتھ کوئی چال چل گیا؟
میرا ہی سایہ میرے مقابل کھڑا ہوا

خوشبو کے شب کدوں کی کہانی نہ کہہ سکا
صبحِ بدن کی شاخ سے اک گل جھڑا ہوا

ارشاد آسماں کو بھی اب سرخ کر گیا
سورج کا امتحان کچھ ایسا کڑا ہوا

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔