یہاں پر جو بھی خدا پر یقین

ایک اردو غزل از سعادت علی سعدی

یہاں پر جو بھی خدا پر یقین رکھتا ہے
سمجھ لو یوں کہ عطا پر یقین رکھتا ہے

دعا کرو کہ بھروسہ نہ ٹوٹ جائے کہیں
وہ سادہ لوح وفا پر یقین رکھتا ہے

جو سر پہ بیٹھ گیا تخت و تاج میرے ہیں
مرا یہ دل تو ہما پر یقین رکھتا ہے

یہ در گزر یہ معافی یہ منتیں غارت
وہ ترش رو تو سزا پر یقین رکھتا ہے

نہ ڈور پر ہے نہ کاغذ پہ کچھ یقیں اس کو
پتنگ باز ہوا پر یقین رکھتا ہے

جو مجھ سے پوچھو تو سعدی کا یہ وتیرہ ہے
وہ دل سے آتی صدا پر یقین رکھتا ہے

سعاد ت علی سعدی

سعادت علی سعدی

سعادت علی سعدی ایک ابھرتے ہوئے شاعر ہیں، انہوں نے متعدد اردو مشاعروں میں شرکت کی، وہ تحصیل عارف والا ضلع پاکپتن میں پیدا ہوئے، وہ ایم فل ایجوکیشن ہیں۔وہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔