یہاں پڑاؤ بہت دیر تک رہا غم کا
زمین پہلا ٹھکانہ نہیں ہے آدم کا
.
ہماری سست روی ٹھیک ٹھاک مسئلہ ہے
مگر جو لطف ِ سماعت ہے ساز ِ مدھم کا
.
یہ کس کے اشک لیے پھر رہی ہے باد نسیم
یہ کس نے کھول کے رکھا ہوا ہے در نم کا
.
یہ اور بات تجھے زندگی سمجھ لیا ہے
مگر کسی کو بھروسہ نہیں رہا دم کا
.
اسے بلاؤ جسے دیکھنے سے زخم بھریں
نظر سے کوئی تقابل نہیں ہے مرہم کا
.
اٹھا کے لاتی رہی تازگیء گل کیلئے
ہوا پہ بوجھ رہا ایک عمر شبنم کا
.
کرشمہ ساز، کوئی معجزہ تو دور کی بات
اثر بھی کوئی نہیں ہورہا ترے دم کا
.
پلٹ رہا ہے جہان، اپنے اصل کی جانب
کنویں کی سمت روانہ ہے پانی زمزم کا
.
ہمارے خواب یہاں داو پر لگے ہوئے ہیں
اور اس کو یاد خسارا ہے دام و درہم کا
ممتازگورمانی