Oplus_131072
تم کیسے جان سکتے ہو ہار کا دکھ
شکاری بھلا کب سمجھتے ہیں شکار کا دکھ
اک شخص کوڈگریاں جلاتے ہوئے دیکھ سمجھ آیا
کیا ہوتا ہے ایک پڑھے لکھے بےروزگار کا دکھ
تیرے احباب عشق کے قصّے سناتے ہیں
تیرے شہر میں آؤ تو بڑھتا ہے انتظار کا دکھ
رگ جاں میں پیوست ہیں اک دشمن جاں
ایک تو ہجر کی عید اور پھر سنگھار کا دکھ
سب کچھ تھا میں بس ماہر گفتار نہ تھا
مجھے کھا گیا اس کی ایک پکار کا دکھ
نگار فاطمہ انصاری