تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے
یہ میری جان کا دشمن کہاں سے آتا ہے

شریک جام نہیں ہوں مگر یہ سوچتا ہوں
ترا بھرا ہوا برتن کہاں سے آتا ہے

یہ پائلیں تو مری طبع زاد ہیں لیکن
مرے کلام میں کنگن کہاں سے آتا ہے

فلک کو دیکھ رہا ہوں سوال کرتے ہوئے
ستارۂ رخ روشن کہاں سے آتا ہے

اکرام عارفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔