واعظ سرِ منبر تجھے کچھ عقل خدا دے
انسان کو انسان کا دشمن نہ بنا دے
تا عمر میں کرتا رہا تبلیغ اِسی کی
دنیا مجھے تُو جرمِ محبت کی سزا دے
اِس عشق کے مضمون کتابوں میں نہیںہیں
تُو ڈھونڈ اُسے جو تجھے یہ درس پڑھا دے
اب تک مجھے کیوں گھور اندھیرے میں ہے رکھا
مجھ کو بھی حقیقت کے اجالوں میں جگہ دے
ظافِرؔ کے شب و روز گزرتے نہیں مولا
کہتا ہے غمِ ہجر ذرا اور بڑھا دے
محمد اویس ظافِر