وہ گِرا نہیں

محسن خالد محسن کی ایک اردو نظم

میں نے برسوں تک
اُس بوڑھے درخت کو دیکھا ہے
جو زمین پر نہیں
وقت کے کندھوں پر کھڑا تھا
اُس کی شاخیں
صرف پتوں کا بوجھ نہیں اُٹھاتیں تھیں
وہ کئی موسموں کی تھکن
اور کئی نسلوں کی خاموشی
اپنے تن پر سہارے ہوئے تھا
کتنی آندھیاں
اُس کے بدن سے ٹکرائیں
کتنے طوفان
اُس کے گِرد چیختے رہے
مگر وہ
اپنی جڑوں میں
کسی قدیم دُعا کی طرح قائم رہا
وہ جُھکا نہیں
حالانکہ ہوا
ہر بار
اُسے شکست دینا چاہتی تھی
وہ گِرا نہیں
حالانکہ بارشیں
اُس کی مٹی بہا لے گئی تھیں
وہ تھکا بھی نہیں
شاید اِس لیے
کہ اُسے معلوم تھا
سایہ دینے والے درخت
اپنی تھکن
کبھی ظاہر نہیں کرتے

محسن خالد محسنؔ

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔