اٹھے تو صبحِ درخشاں

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

اٹھے تو صبحِ درخشاں، جھکے تو ظلمتِ شام
تری نگاہ پہ قائم ہے زندگی کا نظام

یہ خم بہ خم ترے گیسو یہ کافرانہ خرام
ز فرق تا بقدم شعرِ حافظ و خیام

تری جبیں پہ طلوعِ سحر کی پہلی کرن
ترے لبوں پہ بہاروں کا اولیں پیغام

نظر جھکی تو ہوا بند بابِ مے خانہ
نظر اٹھی تو ہوئے چور چور، شیشہ و جام

بغیر لفظ و بیاں گفتگو سرِ محفل
نفس نفس میں فسانے، نظر نظر میں پیام

قدم بڑھیں تو بدل جائے وقت کی رفتار
قدم رکیں تو ٹھہر جائے گردشِ ایام

نہ جانے کون سی منزل ہے یہ محبت کی
نہ پرسشیں، نہ تخاطب، نہ گفتگو نہ سلام

سیّد اقبال عظیم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔