اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے

تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل

اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے
خود اپنی شہرت پہ رشک آئے سخن میں ایسا کمال دے دے

ستارے تسخیر کرنے والا پڑوسیوں سے بھی بے خبر ہے
اگر یہی ہے عروج آدم تو پھر ہمیں تو زوال دے دے

تری طرف سے جواب آئے نہ آئے پرواہ نہیں ہے اس کی
یہی بہت ہے کہ ہم کو یا رب! تو صرف اذن سوال دے دے

ہماری آنکھوں سے اشک ٹپکیں ، لبوں پہ مسکان دوڑتی ہو
جو ہم نے پہلے کبھی نہ پایا ، تو اب کے ایسا ملال دے دے

کبھی تمھارے قریب رہ کر بھی دوریوں کے عذاب جھیلیں
کبھی کبھی یہ تمھاری فرقت بھی ہم کو لطف وصال دے دے

تیمور حسن تیمور​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔