انہیں یہ خوف کہ زلفوں میں خم نہیں رہیں گے
ہمیں خوشی ہے محبت کے غم نہیں رہیں گے
.
ہمارے بعد زمانہ رہے، رہے نہ رہے
مگر یہ بات مسلم ہے، ہم نہیں رہیں گے
.
اسی کا نقش_کف_پا بنے گا منزل_ زیست
سفر کے شوق میں جس کے قدم نہیں رہیں گے
.
خسارا تم کو محبت میں کچھ نہیں ہوگا
نہیں رہیں گے تو ہم محترم نہیں رہیں گے
.
بنا بنایا ہوا کھیل مت بگاڑ اے دوست
بس اتنا سوچ کہیں کے بھی ہم نہیں رہیں گے
.
فنا ہو جاۓ گا اس روز کائنات کا حسن
جب اس بدن کے حسیں زیر و بم نہیں رہیں گے
ممتاز گورمانی