تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے

ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ

تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے
عجیب شدتِ غم ہے کہ داغ جلتا ہے
میں پھول پھول بچاتا جھلس گیا آخر
عجیب رت ہے کہ سارا ہی باغ جلتا ہے
خدا کے واسطے روکو نہ مجھ کو رونے دو
وگرنہ شعلۂ دل سے دماغ جلتا ہے
میں تیز اڑان میں جاتا ہوں آسماں کی طرف
مگر یہ جسم کہ پیشِ سراغ جلتا ہے
شباب چیز ہے ایسی کہ اُف مری توبہ !
کہ جیسے رنگ سے مے کے ایاغ جلتا ہے
گرمی ہے سعد وہی برق آسمانوں سے
کہ جس سے شعلہ نکلتا ہے زاغ جلتا ہے

سعد اللہ شاہ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔