تُمہارے نام لگا دی ہیں سب کی سب نِیندیں
ہر ایک خواب تھا گویا ارب، کھرب نِیندیں
گیا وہ چھوڑ کے یہ شہر، لے گیا سب کُچھ
ہمارے دِن کے اُجالے، سُکون، شب، نِیندیں
کبھی جو مُڑ کے جوانی کی سَمت دیکھتے ہیں
جوانی ہم کو دِکھاتی رہی غضب نِیندیں
جو گھر میں رہتے تھے اسباب سارے بیچ دِیئے
گِرانیوں کے سبب بیچتے ہیں اب نِیندیں
تو جا کے بالِیں پہ سر رکھ کے سو ہی جاتے تھے
ہماری پلکوں پہ کرتی تِھیں رقص جب نِیندیں
امیرِ شہر نے پہلے نوالہ چِھین لِیا
چلا ہے لوگوں کی کرنے کو اب غصب نِیندیں
تُمہاری پلکوں پہ بے وقت رِینگتی جائیں
سزائیں مانگتی گُستاخ، بے ادب نِیندیں
کِسی نے نِیندوں کی نِیندیں اُڑائی ہیں شائد
پناہ ڈُھونڈتی پِھرتی ہیں جاں بلب نِیندیں
یہ وار کر کے ہمیں بے قرار کرتی ہیں
پکڑ میں آئِیں کِسی کے رشِیدؔ کب نِیندیں
رشِید حسرتؔ