تم کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا پھر

شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل

تم کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا پھر
گرچہ آئے تمام دنیا پھر

جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے
پیار کرتے ہیں تم سے، اچھا پھر؟

دیکھ آئے تمام دنیا ہم
کوئی لیکن ملا نہ تم سا پھر

تو نے کی انجمن کی ناقدری
گلی کوچوں میں اب اکیلا پھر

بار ہے بے توجہی دل پر
مہربانو! گلہ نہ کرنا پھر

چل پڑا ہے تو آگے بڑھتا جا
آدھے رستے سے تو نہ الٹا پھر

تو نے دریا کو رد کیا ہے فصیح
اب سمندر کے بیچ پیاسا پھر

شاہین فصیح ربانی

شاہین فصیح ربانی

اصل نام شعیب ربانی - قلمی نام شاہین فصیحؔ ربانی - تاریخ پیدائش 13۔ اپریل 1965ء - جائے پیدائش: دینہ - تعلیم: ایم اے اردو، کراچی یونیورسٹی - شعری مجموعے - کوئی خواب ہمارا ہو (اردو پنجابی ماہیے) 2002ء - اگلے پَل کی طرف (غزلیات) 2006ء -