تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں جو کھو گئے ہیں یارب اوسان وہ کہاں ہیں
آنکھوں میں روتے روتے نم بھی نہیں ہے اب تو تھے موجزن جو پہلے طوفان وہ کہاں ہیں
کچھ اور ڈھب کے اب تو ہم لوگ دیکھتے ہیں پہلے جو اے ظفرؔ تھے انسان وہ کہاں ہیں
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی