مستقل کرب میں رہا دل ھے
غمزدہ غم سے آشنا دل ہے
جانے کیوں مجھ سے بولتا ہی نہیں
جانے کس بات پر خفا دل ہے
جانے کیا ھے سبب اداسی کا
جانے کس غم میں مبتلا دل ھے
ہے مخالف ھجوم لوگوں کا
اور ایسے میں یہ ڈٹا دل ھے
دھوپ میں ایک آسرا سایہ
دشت میں دوسرا میرا دل ھے
جس سے منزل تلک پہنچتے ہیں
وہ حقیقت میں راستہ دل ھے
آٸی پھر سے کسی کی یاد انجم
اور پھر سے بجھا بجھا دل ھے
غنی الرحمٰن انجم