کوٸی نہیں ہے ہماری طرح جہاں ہیں ہم
کھڑے یہاں ہیں مگر دیکھتے وہاں ہیں ہم
تلاش کرتے ہیں خود کو ہی اپنی خلوت میں
خود اپنے واسطے اک رازِ بے نشاں ہیں ہم
ہمارے حال پہ ہنستا ہے یہ زمانہ کیا
کہ خود بھی اپنی تباہی پہ شادماں ہیں ہم
خلوص و مہر کی دولت لٹاتے پھرتے ہیں
محبتوں کا چمکتا ہوا جہاں ہیں ہم
ہمارے ظرف کا اندازہ ہو سکے گا کسے
خموش رہ کے بھی اک حشرِ بے بیاں ہیں ہم
نہ کوئی راہِ سفر اور نہ منزل انجم
بس اپنے شوق میں خود اپنا کارواں ہیں ہم
غنی الرحمٰن انجم