تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو

دل تو وہ زخم ہے جسے آرام ہی نہ ہو

چونکا ہوں نیم شب بھی یہی سوچ سوچ کر

وہ آفتاب اب بھی لب بام ہی نہ ہو

تم جس کو جانتے ہو فقط اپنی طبع خاص

وہ رنج وہ فسردہ دلی عام ہی نہ ہو

آہستہ اس لرزتے ہوئے پل پہ رکھ قدم

صدیوں کا انہدام ترے نام ہی نہ ہو

اے دل مفر تو کار جہاں سے نہیں مگر

اتنا تو کر کہ اس میں سبک گام ہی نہ ہو

دستک سی دے رہی ہے دریچے پہ باد صبح

اے محو خواب سن کوئی پیغام ہی نہ ہو

خورشیدؔ تو نے کیسے نبھائیں یہ عزلتیں

جیسے تجھے کسی سے کوئی کام ہی نہ ہو

خورشید رضوی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔