تیرے مجذوب اگر ہوش لیے رہ جاتے
کتنے اسرار فقیری کے چھپے رہ جاتے
پیڑ کا سوکھا بدن مجھ سے حرارت لیتا
خشک سالی میں مرے زخم ہرے رہ جاتے
مذہبی کلیے سے تقسیم نہیں کرتے تو
فیصلہ سازوں کے اعصاب کھچے رہ جاتے
تیرے آنے سے کھرچ لائے ہیں پژمردہ گلاب
ورنہ بوسیدہ کتابوں میں پڑے رہ جاتے
بھر دیا آتے ہوئے شخص نے جذباتی خلا
اس سے پہلے کہ مرے بازو کھلے رہ جاتے
دے گیا درسِ علی خطبۂ زینب ورنہ
لوگ دربارِ یزیدی میں جھکے رہ جاتے
جھوٹ کے پیر اگر ہوتے تو ہم لوگ لطیف
اپنی سچائی کے ملبے میں دبے رہ جاتے
لطیف ساجد