تیرے مجذوب اگر ہوش لیے رہ جاتے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

تیرے مجذوب اگر ہوش لیے رہ جاتے
کتنے اسرار فقیری کے چھپے رہ جاتے

پیڑ کا سوکھا بدن مجھ سے حرارت لیتا
خشک سالی میں مرے زخم ہرے رہ جاتے

مذہبی کلیے سے تقسیم نہیں کرتے تو
فیصلہ سازوں کے اعصاب کھچے رہ جاتے

تیرے آنے سے کھرچ لائے ہیں پژمردہ گلاب
ورنہ بوسیدہ کتابوں میں پڑے رہ جاتے

بھر دیا آتے ہوئے شخص نے جذباتی خلا
اس سے پہلے کہ مرے بازو کھلے رہ جاتے

دے گیا درسِ علی خطبۂ زینب ورنہ
لوگ دربارِ یزیدی میں جھکے رہ جاتے

جھوٹ کے پیر اگر ہوتے تو ہم لوگ لطیف
اپنی سچائی کے ملبے میں دبے رہ جاتے

لطیف ساجد

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے