ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی
اگرچہ اس میں تری کوششیں بھی شامل ہیں یہ کائنات مری کائنات ہے پھر بھی
کہاں حقیقت جلوہ، کہاں فریب شرار ہزار شمعیں جلیں رات رات ہے پھر بھی
باقی صدیقی
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل