ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی
اگرچہ اس میں تری کوششیں بھی شامل ہیں یہ کائنات مری کائنات ہے پھر بھی
کہاں حقیقت جلوہ، کہاں فریب شرار ہزار شمعیں جلیں رات رات ہے پھر بھی
باقی صدیقی
شاعر : سہیل احمد صمیم
ایک اردو غزل از رشید حسرت
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل