تیرا صدقہ کمال سے نکلا چاند تیرے جمال سے نکلا
زہن مفلوج ہوگیا میرا جب وہ میرے خیال سے نکلا
دشت میں عشق تیرا کام آیا ایک چشمہ دھمال سے نکلا
تیری صورت کو دیکھ کر محکم وحشتوں کے وبال سے نکلا
زین محکم
نام : زین محکم - مستقل پتہ ؛ سکیکھی حافظ آباد - عارضی پتہ : لاہور - طالب علم ہوں سپیریر یونیورسٹی میں کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ سے بیچلر کی تعلیم لے رہا ہوں
تمہید الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام على محمد النبی الأمین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔…
ایک اردو تحریر از عابد ضمیر ہاشمی
تحریر : سہیل احمد صمیم
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل
میر حسن کا ایک اردو کالم