تیرا صدقہ کمال سے نکلا چاند تیرے جمال سے نکلا
زہن مفلوج ہوگیا میرا جب وہ میرے خیال سے نکلا
دشت میں عشق تیرا کام آیا ایک چشمہ دھمال سے نکلا
تیری صورت کو دیکھ کر محکم وحشتوں کے وبال سے نکلا
زین محکم
نام : زین محکم - مستقل پتہ ؛ سکیکھی حافظ آباد - عارضی پتہ : لاہور - طالب علم ہوں سپیریر یونیورسٹی میں کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ سے بیچلر کی تعلیم لے رہا ہوں
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم
از طارق قمر
ابو خالد قاسمی استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار