تیرا صدقہ کمال سے نکلا چاند تیرے جمال سے نکلا
زہن مفلوج ہوگیا میرا جب وہ میرے خیال سے نکلا
دشت میں عشق تیرا کام آیا ایک چشمہ دھمال سے نکلا
تیری صورت کو دیکھ کر محکم وحشتوں کے وبال سے نکلا
زین محکم
نام : زین محکم - مستقل پتہ ؛ سکیکھی حافظ آباد - عارضی پتہ : لاہور - طالب علم ہوں سپیریر یونیورسٹی میں کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ سے بیچلر کی تعلیم لے رہا ہوں
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از انور علی
تبصرہ و تنقید : فراق مجروح یوسفزے