تیر کس کی کماں سے نکلا ہے

کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

تیر کس کی کماں سے نکلا ہے
سا منے شیر خوار بچہ ہے

دیکھ ! نہر فرات دیکھ ! ذرا
کون پیاسا ہے ؟ کون پیاسا ہے ؟

میرے سینے میں آگ جلتی ہے
میری آنکھوں میں ایک دریا ہے

میں ہوں تیر ے خیال کا چہر ہ
تو مجھے کیسے بھول سکتا ہے ؟

ہم جلائیں گے آنسوؤں کے چراغ
آج پھر دشتِ غم میں میلہ ہے

بس زباں میر ـؔ سی نہیں آتی
حال دل کا تو میر ؔ جیسا ہے

موت باطل کی دوستی ہے کلیم ؔ
زندگی کربلا میں لڑنا ہے

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ جلا لپور جٹاں ضلع گجرات میں 5 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احسان اللہ بٹ تھا۔ آپ نے اپتدائی تعلیم جلال پور جٹاں میں حاصل کی۔ ایم اے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ کی اب تک سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے تین شاعری کی ہیں۔ تفصیل حسب ذیل ہے 1۔گجرات میں اردو شاعری۔گجرات کی 444سالہ علمی و ادبی تاریخ 2۔ موسم گل حیران کھڑا ہے شاعری 3۔ ابر رحمت جلد اول تحقیق 4۔ ابر رحمت جلد دوم تحقیق 5۔ چلو جگنو پکڑتے ہیں شاعری 6۔ تفہیم و تحسین تنقیدی مضامین 7۔ حیرت باقی رہ جاتی ہے