تاج نے تخت نے بغاوت کی

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

تاج نے تخت نے بغاوت کی
جب مرے وقت نے بغاوت کی

یاد تجھ کو نہیں کیا جب بھی
قلبِ دو لخت نے بغاوت کی

دونوں سمتوں کا جب ملاپ ہوا
تیسری سمت نے بغاوت کی

مجھ کو اپنے بھی چھوڑ جائیں گے
جب مرے بخت نے بغاوت کی

ہوش مندوں کی بزم میں دیکھو
آج اک مست نے بغاوت کی

شہر والوں کو دیکھ کر عنبر
دشت میں دشت نے بغاوت کی

فرحانہ عنبر

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔