سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں سرِ نوکِ سناں مَیں ہوں
اَنا ، مقتل ، وِچھوڑا ، غم سبھی کا پاسباں مَیں ہوں
ستم گر بھول جاتا ہے کہاں وہ ہے، کہاں مَیں ہوں
سنا ہے حسن کا دعویٰ ابھی فخرِ بتاں مَیں ہوں
خبر دشتِ جنوں کی ہے خبر کے درمیاں مَیں ہوں
ناصر ملک
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم
سراج احمد تنولی کی کتاب "دیا" (کالمز کا مجموعہ )، قلم کی روشنی اور عہد…
جس عورت کی گود میں انسان پہلی بار آنکھ کھولتا ہے، عجیب بات ہے کہ…
ایک اردو غزل از رشید حسرت