سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں سرِ نوکِ سناں مَیں ہوں
اَنا ، مقتل ، وِچھوڑا ، غم سبھی کا پاسباں مَیں ہوں
ستم گر بھول جاتا ہے کہاں وہ ہے، کہاں مَیں ہوں
سنا ہے حسن کا دعویٰ ابھی فخرِ بتاں مَیں ہوں
خبر دشتِ جنوں کی ہے خبر کے درمیاں مَیں ہوں
ناصر ملک
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو نظم
از پیر انتظار حسین مصور
ایک اردو تحریر از انور علی
محمد عمیر سالک کی ایک اردو نظم