سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں سرِ نوکِ سناں مَیں ہوں
اَنا ، مقتل ، وِچھوڑا ، غم سبھی کا پاسباں مَیں ہوں
ستم گر بھول جاتا ہے کہاں وہ ہے، کہاں مَیں ہوں
سنا ہے حسن کا دعویٰ ابھی فخرِ بتاں مَیں ہوں
خبر دشتِ جنوں کی ہے خبر کے درمیاں مَیں ہوں
ناصر ملک
ایک اردو نعت مبارکہ از وقیع
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تبصرہ : فراق مجروح یوسفزے
ایک مزاحیہ تحریر از اکرم ثاقب