صبح میں شام کے آثار بھی ہیں حادثے کچھ پس دیوار بھی ہیں
راس آتی نہیں تنہائی بھی اور ہر شخص سے بیزار بھی ہیں
آزمائش سے بھی جاں جاتی ہے اور ہم تیرے طلب گار بھی ہیں
پہلے اک دل پہ نظر تھی باقیؔ سامنے اب کئی بازار بھی ہیں
باقی صدیقی
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل