صبح میں شام کے آثار بھی ہیں حادثے کچھ پس دیوار بھی ہیں
راس آتی نہیں تنہائی بھی اور ہر شخص سے بیزار بھی ہیں
آزمائش سے بھی جاں جاتی ہے اور ہم تیرے طلب گار بھی ہیں
پہلے اک دل پہ نظر تھی باقیؔ سامنے اب کئی بازار بھی ہیں
باقی صدیقی
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
از پروفیسر اویس خالد