ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی

ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی

ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی
نہیں جاتی نظر کی فتنہ سامانی نہیں جاتی

نمود جلوۂ بے رنگ سے ہوش اس قدر گُم ہیں
کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

پتہ ملتا نہیں اب آتشِ وادیِ ایمن کا
مگر مینائے مے کی نور افشانی نہیں جاتی

مگر اک مشتِ پر کی خاک سے کچھ ربط باقی ہے
ابھی تک شاخِ گل کی شعلہ افشانی نہیں جاتی

چمن میں چھیڑتی ہے کس مزے سے غنچہ و گُل کو
مگر موجِ صبا کی پاک دامانی نہیں جاتی

اڑا دیتا ہوں اب بھی تار تارِ ہست و بود اصغر
لباسِ زہد و تمکیں پر بھی عریانی نہیں‌ جاتی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔